الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ الصَّلاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”أَيُّمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ ، فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ ، فَإِنَّهَا لَهُ زَكَاةٌ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان آدمی کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں کہے: اے اللہ تو رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بندے اور رسول پر، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر، نیز مسلمان مردوں اور عورتوں پر رحمت نازل فرما۔ تو یہ اس کے لیے زکاۃ ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی کثیر تعداد میں صحیح احادیث ہیں لیکن مذکورہ روایت کی سند ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں دراج ابو السمع، ابو الہیثم سے بیان کرتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی کثیر تعداد میں صحیح احادیث ہیں لیکن مذکورہ روایت کی سند ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں دراج ابو السمع، ابو الہیثم سے بیان کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 640 سے ماخوذ ہے۔