حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”أَحَبُّ الْكَلامِ إِلَى اللَّهِ : سُبْحَانَ اللَّهِ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب کلام یہ ہے: «سبحان الله وبحمده، لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، لا حول ولا قوة إلا بالله، سبحان الله والحمد لله» اللہ تعالیٰ پاک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ پاک ہے، اور اسی کی تعریف کے ساتھ (ہم مشغول ہیں)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ بندے کی زبان سے نکلنے والی جو بات سب سے اچھی ہوسکتی ہے وہ مذکورہ بالا کلمات کی ادائیگی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ غیبت اور دوسری بری گفتگو چھوڑ کر ان کلمات کو زبان پر جاری رکھے۔ مختلف مواقع پر آپ نے مختلف کلمات کی جو فضیلت بیان کی ہے، وہ جزوی ہے مجموعی طور پر یہ کلمات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ بندے کی زبان سے نکلنے والی جو بات سب سے اچھی ہوسکتی ہے وہ مذکورہ بالا کلمات کی ادائیگی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ غیبت اور دوسری بری گفتگو چھوڑ کر ان کلمات کو زبان پر جاری رکھے۔ مختلف مواقع پر آپ نے مختلف کلمات کی جو فضیلت بیان کی ہے، وہ جزوی ہے مجموعی طور پر یہ کلمات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 638 سے ماخوذ ہے۔