حدیث نمبر: 637
فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : ”سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ“، ثُمَّ أَتَاهُ الْغَدَ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : ”سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ“.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت مانگو۔“ پھر وہ اگلے دن آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے درگزر اور عافیت طلب کرو۔ اگر تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل گئی تو یقیناً تو فلاح پا گیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
جب تک کسی بندے کے گناہ معاف نہیں ہوں گے اس وقت تک جنت میں داخلہ ناممکن ہے اور دنیا اور آخرت میں عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ اس لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار اسی پر ہے۔
جب تک کسی بندے کے گناہ معاف نہیں ہوں گے اس وقت تک جنت میں داخلہ ناممکن ہے اور دنیا اور آخرت میں عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ اس لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار اسی پر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 637 سے ماخوذ ہے۔