حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : كَانَ أَنَسٌ ، إِذَا دَعَا لأَخِيهِ ، يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ صَلاةَ قَوْمٍ إِبْرَارٍ لَيْسُوا بِظَلَمَةٍ وَلا فُجَّارٍ ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ ، وَيَصُومُونَ النَّهَارَ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب اپنے کسی بھائی کے لیے دعا کرتے تو یوں کہتے: ”اللہ اسے نیک لوگوں کی دعاؤں کا حق دار بنائے جو نہ ظالم ہوں اور نہ بدکار، جو راتوں کو قیام کرتے ہوں اور دن کو روزہ رکھتے ہوں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوفًا وقد صح مرفوعًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا وقد صح مرفوعًا : الصحيحة : 1810 - أخرجه ابن السني فى عمل اليوم : 202 و أبونعيم فى الحلية : 34/2 و البزار : 137/13 و رواه مرفوعًا عبد بن حميد : 1360»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت مرفوعاً بھی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لیے بہت زیادہ دعا کرتے تو انہی کلمات کے ساتھ کرتے۔ (الصحیحہ للالبانی، ح:۱۸۱۰)نیز اس روایت سے معلوم ہوا کہ جو شخص چاہتا ہے اس کی دعا قبول ہو اسے قیام اللیل اور روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے یا ایسی صفات کے حامل لوگوں سے دعا کروانی چاہیے۔ اس کے برعکس فسق و فجور اور ظلم قبولیت دعا میں رکاوٹ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 631 سے ماخوذ ہے۔