الادب المفرد
كتاب صلة الرحم— كتاب صلة الرحم
بَابُ لا تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ رَحِمٍ باب: ایسی قوم پر اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں قطع رحمی کرنے والا ہو
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو إِدَامٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الرَّحْمَةَ لاَ تَنْزِلُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ رَحِمٍ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت اس قوم پر نازل نہیں ہوتی جس میں قطع رحمی کرنے والا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں ابو ادام کذاب اور متروک الحدیث ہے، تاہم اللہ کے نافرمانوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے اور نہ ہی انہیں اپنی مجالس میں بٹھانا چاہیے کیونکہ بری صحبت کے اثرات بہر صورت ضرور ہوتے ہیں۔
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں ابو ادام کذاب اور متروک الحدیث ہے، تاہم اللہ کے نافرمانوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے اور نہ ہی انہیں اپنی مجالس میں بٹھانا چاہیے کیونکہ بری صحبت کے اثرات بہر صورت ضرور ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 63 سے ماخوذ ہے۔