حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ فِيمَا يَدْعُو : اللَّهُمَّ تَوَفَّنِي مَعَ الأَبْرَارِ ، وَلا تُخَلِّفْنِي فِي الأَشْرَارِ ، وَأَلْحِقْنِي بِالأَخْيَارِ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنی دعا میں یوں کہا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے نیک لوگوں کے ساتھ فوت فرمانا اور مجھے برے لوگوں کے ساتھ پیچھے نہ چھوڑ دینا اور مجھے اچھے لوگوں کے ساتھ ملانا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري فى تاريخه الكبير : 349/6 و ابن سعد فى الطبقات : 331/3»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسان کو قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت میں وہ فوت ہوا اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نیکوں کے ساتھ موت کی دعا کرتے تاکہ قیامت کے روز انہی کے ساتھ حشر ہو۔ اور فرماتے کہ باری تعالیٰ مجھے برے احباب سے بچانا، ایسا نہ ہو کہ اچھے لوگ فوت ہو جائیں اور مجھے برے لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے۔ او رمجھے ایسے نیک اعمال کی توفیق عطا فرما اور انہیں قبولیت دے جن کے ذریعے سے میں نیکوں کے ساتھ جا ملوں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 629 سے ماخوذ ہے۔