الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دُعَاءِ الْأَخِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ باب: بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرنا
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الصُّنَابِحِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ دَعْوَةَ الأَخِ فِي اللَّهِ تُسْتَجَابُ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دینی بھائی کی دعا اپنے دینی بھائی کے بارے میں قبول ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جن دو افراد کا تعلق اور بھائی چارہ دین کی وجہ سے ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو ان کی دعا ایک دوسرے کے حق میں قبول ہوتی ہے، دوسرے لفظوں میں جن کی محبت اللہ کے لیے ہو کوئی دنیاوی مفاد نہ ہو ان کی ایک دوسرے کے حق میں دعا قبول ہوتی ہے۔ گویا قبولیت دعا کے اسباب میں اللہ کے لیے محبت اور تعلق بھی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جن دو افراد کا تعلق اور بھائی چارہ دین کی وجہ سے ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو ان کی دعا ایک دوسرے کے حق میں قبول ہوتی ہے، دوسرے لفظوں میں جن کی محبت اللہ کے لیے ہو کوئی دنیاوی مفاد نہ ہو ان کی ایک دوسرے کے حق میں دعا قبول ہوتی ہے۔ گویا قبولیت دعا کے اسباب میں اللہ کے لیے محبت اور تعلق بھی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 624 سے ماخوذ ہے۔