الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دُعَاءِ الْأَخِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ باب: بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرنا
حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ِ، قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ” أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دُعَاءُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ .“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو کسی شخص کی دعا کسی دوسرے کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی جائے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم مسلمان کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا کی قبولیت صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم مسلمان کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا کی قبولیت صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 623 سے ماخوذ ہے۔