حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ ، يَقُولُ : ”اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَلا تُعَاقِبْنِي ، أَيُّمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ فَلا تُعَاقِبْنِي فِيهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں بشر ہوں، لہٰذا میرا مواخذہ نہ فرمانا۔ میں نے جس مومن کو تکلیف پہنچائی، یا برا بھلا کہا، اس کے بارے میں مجھے نہ پکڑنا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دیکھیے، حدیث ۶۱۰ کے فوائد۔
دیکھیے، حدیث ۶۱۰ کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 613 سے ماخوذ ہے۔