حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : ”اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا ، وَائْتِ بِهِمْ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! دوس قبیلے والوں نے نافرمانی اور انکار کیا ہے۔ لہٰذا ان کے خلاف دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور ہاتھ اٹھا دیے۔ لوگوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بددعا کرنے لگے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں ہمارے پاس لے آ۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الجهاد : 2937 ، 6397 و أحمد : 7315 و الحميدي : 1050 و مسلم : 2524 ، بمعناه»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
طفیل بن عمرو دوسی اپنے قبیلے کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد واپس گئے اور قوم کو دعوت دی تو انہوں نے انکار کیا۔ دلبرداشتہ ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بد دعا کی درخواست کی۔ آپ نے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 611 سے ماخوذ ہے۔