حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ ، يَقُولُ : ”إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَلا تُعَاقِبْنِي ، أَيُّمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ فَلا تُعَاقِبْنِي فِيهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں بشر ہوں، میرا مواخذہ نہ فرمانا، میں نے جس مسلمان کو بھی اذیت دی ہے، یا اسے برا بھلا کہا ہے، اس میں میری پکڑ نہ کرنا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا دعا کے آداب میں شامل ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر دعاؤں میں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔
(۲) بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی دعا فرمائی کہ باری تعالیٰ جس پر میں نے لعنت کی ہے یا برا بھلا کہا ہے اور وہ مسلمان ہے تو میری یہ بد دعا اس کے لیے رحمت بنا دے۔ (صحیح مسلم، ح:۲۶۰۱)
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا دعا کے آداب میں شامل ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر دعاؤں میں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔
(۲) بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی دعا فرمائی کہ باری تعالیٰ جس پر میں نے لعنت کی ہے یا برا بھلا کہا ہے اور وہ مسلمان ہے تو میری یہ بد دعا اس کے لیے رحمت بنا دے۔ (صحیح مسلم، ح:۲۶۰۱)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 610 سے ماخوذ ہے۔