حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ ، وَلا يَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي ، فَإِنَّ اللَّهَ لا مُسْتَكْرِهَ لَهُ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو مضبوط ارادے کے ساتھ دعا کرے، اور یوں نہ کہے: اے اللہ اگر تو چاہتا ہے تو مجھے عطا کر دے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري : 6338 و مسلم : 2678»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قبولیت دعا کا یقین رکھتے ہوئے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ضرور عطا کرے گا۔ شک اور تذبذب کے ساتھ مانگی گئی دعاکم ہی درجہ قبولیت تک پہنچتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کے گمان کے مطابق ہی اس کے ساتھ معاملہ فرماتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 608 سے ماخوذ ہے۔