حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ زَانَهُ، وَلاَ كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلا شَانَهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حیا مسلمان کا وہ زیور ہے جس سے اس کی شخصیت خوبصورت نظر آتی ہے۔ بعض روایات میں نرمی کو شخصیت کی خوبصورتی کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نرم مزاج شخص ہی حیا دار ہوسکتا ہے۔ تند مزاج اور سخت طبیعت والا حیا دار نہیں ہوتا۔ گویا حیا نرمی کو اور نرمی حیا کو مستلزم ہے۔ بد زبانی اور بے حیائی بہت بڑے کردار کو بھی مسخ کر دیتی ہے اس لیے اپنے اندر حیا پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خصوصاً علماء کو خلاف مروّت اور فحش پر مبنی گفتگو سے ضرور اجتناب کرنا چاہیے۔
حیا مسلمان کا وہ زیور ہے جس سے اس کی شخصیت خوبصورت نظر آتی ہے۔ بعض روایات میں نرمی کو شخصیت کی خوبصورتی کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نرم مزاج شخص ہی حیا دار ہوسکتا ہے۔ تند مزاج اور سخت طبیعت والا حیا دار نہیں ہوتا۔ گویا حیا نرمی کو اور نرمی حیا کو مستلزم ہے۔ بد زبانی اور بے حیائی بہت بڑے کردار کو بھی مسخ کر دیتی ہے اس لیے اپنے اندر حیا پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خصوصاً علماء کو خلاف مروّت اور فحش پر مبنی گفتگو سے ضرور اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 601 سے ماخوذ ہے۔