حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ مَوْلَى أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : وَقَالَ غُنْدَرٌ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مَوْلَى أَنَسٍ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکی سے زیادہ حیا دار تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تو ہم اس کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پہچان لیتے۔ ایک دوسری سند سے بھی سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیا کا پیکر تھے۔ آپ جب کوئی خلاف مروت چیز دیکھتے تو زبان سے اظہار نہ فرماتے۔ حیا کی وجہ سے ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے سے نمایاں ہوتے۔ اس لیے حیا جس قدر زیادہ ہو ایمان بھی اسی قدر کامل ہوگا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیا کا پیکر تھے۔ آپ جب کوئی خلاف مروت چیز دیکھتے تو زبان سے اظہار نہ فرماتے۔ حیا کی وجہ سے ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے سے نمایاں ہوتے۔ اس لیے حیا جس قدر زیادہ ہو ایمان بھی اسی قدر کامل ہوگا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 599 سے ماخوذ ہے۔