الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْهَدِيَّةَ لَمَّا دَخَلَ الْبُغْضُ فِي النَّاسِ باب: ہدیہ دینے والے سے ناگواری ہو جائے تو ہدیہ قبول نہ کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَعَوَّضَهُ، فَتَسَخَّطَهُ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: ”يَهْدِي أَحَدُهُمْ فَأُعَوِّضُهُ بِقَدْرِ مَا عِنْدِي، ثُمَّ يَسْخَطُهُ وَايْمُ اللهِ، لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ عَامِي هَذَا مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو فزارہ کے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی کا تحفہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلے میں تحفہ دیا تو وہ ناراض ہو گیا (کہ یہ کم ہے)۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق اس کا بدلہ دیتا ہوں، پھر بھی وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اللہ کی قسم اس سال کے بعد میں کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے سوا عرب میں سے کسی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ اگر کوئی آپ کو ہدیہ اور تحفہ پیش کرتا تو اپنی استطاعت کے مطابق اس سے بڑھ کر عطا فرماتے۔ صحابہ کرام آپ کے تھوڑے کو بھی بہت زیادہ سمجھتے، جیسے کسی شاعر نے کہا ہے: وقَلیل منك لا یقال له قلیل
’’تیرے تھوڑے کو تھوڑا نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
مذکورہ بالا جن قبائل کا تذکرہ آپ نے کیا وہ معاوضے کے لالچ کے بغیر سخاوت نفس سے ہدیہ دیتے تھے کہ اگر جواباً نہ بھی ملتا تو آپ کا قبول کر لینا ہی ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ ہوتا۔
(۲) فزاری نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ زیادہ کے حصول کا طلب گار ہے اس لیے آپ نے اسے چھ اونٹنیاں دیں لیکن اس کے باوجود وہ ناراض ہوگیا۔ (سنن الترمذی، حدیث:۳۰۹۱)لوگ بادشاہوں کے حضور نذرانے پیش کرتے اور وہاں سے بے تحاشا مال و صول کرتے تھے کیونکہ ان بادشاہوں کے پاس بھی حلال و حرام کا مال ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ اس کے برعکس تھا کہ آپ کے پاس تو جو ذاتی ہوتا وہ بھی ضرورت مند کو دے دیتے۔ اس لیے آپ نے اپنی وسعت کے مطابق خوب بدلہ دیا۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی مصلحت کے پیش نظر کسی خاص فرد سے تحائف اور لین دین کا سلسلہ ختم کرسکتا ہے، تاہم اس وجہ سے سلام دعا ترک کرنا ناجائز ہے۔
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ اگر کوئی آپ کو ہدیہ اور تحفہ پیش کرتا تو اپنی استطاعت کے مطابق اس سے بڑھ کر عطا فرماتے۔ صحابہ کرام آپ کے تھوڑے کو بھی بہت زیادہ سمجھتے، جیسے کسی شاعر نے کہا ہے: وقَلیل منك لا یقال له قلیل
’’تیرے تھوڑے کو تھوڑا نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
مذکورہ بالا جن قبائل کا تذکرہ آپ نے کیا وہ معاوضے کے لالچ کے بغیر سخاوت نفس سے ہدیہ دیتے تھے کہ اگر جواباً نہ بھی ملتا تو آپ کا قبول کر لینا ہی ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ ہوتا۔
(۲) فزاری نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ زیادہ کے حصول کا طلب گار ہے اس لیے آپ نے اسے چھ اونٹنیاں دیں لیکن اس کے باوجود وہ ناراض ہوگیا۔ (سنن الترمذی، حدیث:۳۰۹۱)لوگ بادشاہوں کے حضور نذرانے پیش کرتے اور وہاں سے بے تحاشا مال و صول کرتے تھے کیونکہ ان بادشاہوں کے پاس بھی حلال و حرام کا مال ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ اس کے برعکس تھا کہ آپ کے پاس تو جو ذاتی ہوتا وہ بھی ضرورت مند کو دے دیتے۔ اس لیے آپ نے اپنی وسعت کے مطابق خوب بدلہ دیا۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی مصلحت کے پیش نظر کسی خاص فرد سے تحائف اور لین دین کا سلسلہ ختم کرسکتا ہے، تاہم اس وجہ سے سلام دعا ترک کرنا ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 596 سے ماخوذ ہے۔