حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ لَوْ أَنَّ جَبَلاً بَغَى عَلَى جَبَلٍ لَدُكَّ الْبَاغِي‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اگر ایک پہاڑ دوسرے پر سرکشی کرے تو سرکشی کرنے والے کا چورا ہو جائے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه وكيع فى الزهد : 427 و ابن وهب فى الجامع : 274 و هناد فى الزهد : 643/2 و أبونعيم فى الحلية : 322/1 - انظر الضعيفة تحت الحديث : 1948»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ سرکشی بہت خطرناک گناہ ہے، حتی کہ اگر جمادات بھی اس کا ارتکاب کریں تو باغی ریزہ ریزہ ہو جائے یا اگر جس پر بغاوت کی جارہی ہے وہ ختم ہو جائے تو بغاوت کرنے والا بھی نہیں بچے گا اور ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 588 سے ماخوذ ہے۔