حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْبَدْوِ قُلْتُ: وَهَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ يَبْدُو إِلَى هَؤُلاَءِ التِّلاعِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دیہات کی طرف جانے کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی شہری آبادی سے باہر بھی جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار ان ٹیلوں کی طرف جایا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
شہری آبادی سے کبھی کبھار باہر نکلنا تاکہ تازہ آب و ہوا ملے اور طبیعت میں بہار آئے، جائز ہے۔ یہ دیہات میں رہائش اختیار کرنے کی ممانعت کے زمرے میں نہیں آتا۔
شہری آبادی سے کبھی کبھار باہر نکلنا تاکہ تازہ آب و ہوا ملے اور طبیعت میں بہار آئے، جائز ہے۔ یہ دیہات میں رہائش اختیار کرنے کی ممانعت کے زمرے میں نہیں آتا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 580 سے ماخوذ ہے۔