حدیث نمبر: 575
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ عَجِبْتُ لِلْكِلاَبِ وَالشَّاءِ، إِنَّ الشَّاءَ يُذْبَحُ مِنْهَا فِي السَّنَةِ كَذَا وَكَذَا، وَيُهْدَى كَذَا وَكَذَا، وَالْكَلْبُ تَضَعُ الْكَلْبَةُ الْوَاحِدَةُ كَذَا وَكَذَا وَالشَّاءُ أَكْثَرُ مِنْهَا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے کتے اور بکریوں کے معاملے پر تعجب ہوتا ہے، بلاشبہ بکریاں سال میں اتنی ذبح کی جاتی ہیں اور کثیر مقدار میں قربانی بھی کی جاتی ہیں۔ اور ایک کتیا ایک وقت میں کتنے کتنے بچے جنتی ہے، مگر اس کے باوجود بکریاں اس سے زیادہ ہیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 575
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس روایت کا تعلق بظاہر سابقہ باب سے لگتا ہے مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مویشی کثرت سے پالنے چاہئیں۔
(۲) اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ ایمان و یقین میں اضافہ ہو۔
(۳) سلسلہ توالد کے اعتبار سے ایک کتیا کے بچے زیادہ ہوتے اور کسی کام بھی نہیں آتے اور بکریوں کی کھپت زیادہ ہونے اور پیداوار کم ہونے کے باوجود ان کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ ان کی برکت کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 575 سے ماخوذ ہے۔