حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ أَصَابَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، فَحَسَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ، قُلْنَا‏:‏ لِمَ فَعَلْتَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”لأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ بارش آ گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن مبارک سے کپڑا ہٹایا یہاں تک کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو پہنچی۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لیے کہ یہ اپنے رب کی طرف سے ابھی ابھی آئی ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب صلاة الاستسقاء : 898 و أبوداؤد : 5100 - انظر ظلال الجنة : 622»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ بارش کے نزول کے وقت جسم سے کپڑا ہٹا کر بارش سے براہ راست فائدہ اٹھانا اور اس کو جسم پر لگانا مسنون ہے۔ اسی طرح نزول بارش کے وقت دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ اس لیے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وقت دعا کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 571 سے ماخوذ ہے۔