حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَالزُّبَيْرِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مؤاخات اور بھائی چارے کی ابتدائی صورت یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے، پھر اس صورت کو ختم کر دیا گیا اور حقیقی ورثاء ہی کو وراثت کا حق دار بنا دیا، تاہم اسلامی بھائی چارہ قائم رکھا۔ اس لیے جن احادیث میں حلف اور بھائی چارے کی نفي ہے تو اس سے مراد ایک دوسرے کا وارث بننے کی نفي ہے۔
مؤاخات اور بھائی چارے کی ابتدائی صورت یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے، پھر اس صورت کو ختم کر دیا گیا اور حقیقی ورثاء ہی کو وراثت کا حق دار بنا دیا، تاہم اسلامی بھائی چارہ قائم رکھا۔ اس لیے جن احادیث میں حلف اور بھائی چارے کی نفي ہے تو اس سے مراد ایک دوسرے کا وارث بننے کی نفي ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 568 سے ماخوذ ہے۔