الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ أَطْعَمَ أَخًا لَهُ فِي اللهِ باب: دینی بھائی کو کھانا کھلانے کا بیان
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لأَنْ أَجْمَعَ نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِي عَلَى صَاعٍ أَوْ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى سُوقِكُمْ فَأُعْتِقَ رَقَبَةً.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے مسلمان بھائیوں کو اکٹھا کر کے ایک یا دو ٹوپے غلے کا کھانا کھلاؤں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں تمہارے بازار کی طرف جاؤں اور ایک غلام آزاد کروں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کھانا کھلانے کی فضیلت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے، خصوصاً ضرورت مند مسلمانوں کو کھانا کھلانا بہت فضیلت والا کام ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کھانا کھلانے کی فضیلت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے، خصوصاً ضرورت مند مسلمانوں کو کھانا کھلانا بہت فضیلت والا کام ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 566 سے ماخوذ ہے۔