حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَحَدَّثَ نَفْسَهُ، ثُمَّ انْتَبَهَ فَقَالَ‏:‏ لاَ حِلْمَ إِلاَّ تَجْرِبَةٌ، يُعِيدُهَا ثَلاثًا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے دل میں کوئی خیال آیا، پھر سنبھل کر فرمانے لگے: بردباری تجربے ہی سے آتی ہے۔ تین بار انہوں نے یہ بات دہرائی۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 564
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا: أخرجه ابن أبى شيبة : 30558 و ابن سعد فى الطبقات : 1/ 129 و البيهقي فى شعب الإيمان : 8528 - المشكاة : 5056 ، التحقيق الثاني»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حلم و بردباری کبھی وہبی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے عنایت فرماتا ہے اور کبھی کسبی ہوتی ہے کہ انسان صبر کرکے خود پر دباؤ ڈال کے بھی بردبار بن سکتا ہے اس لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجربات ہی انسان کو برداشت سکھاتے ہیں۔ انسان کو دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 564 سے ماخوذ ہے۔