حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”ضَحَايَاكُمْ، لاَ يُصْبِحُ أَحَدُكُمْ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ‏.“‏ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا الْعَامَ الْمَاضِيَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”كُلُوا وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانُوا فِي جَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے گھر میں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد نہ رہے۔“ پھر جب آئندہ سال آیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سال بھی ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ پچھلے سال کیونکہ لوگ تنگی میں تھے اس لیے میں نے چاہا کہ تم ان کی معاونت کرو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 563
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأضاحي ، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي : 5569 و مسلم : 1974 - انظر الإرواء : 370/4»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حجۃ الوداع سے ایک سال قبل آپ نے قربانی کرنے والوں کو حکم دیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت نہ رکھیں بلکہ تقسیم کر دیں تاکہ تنگ دست لوگ بھی زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں۔ اس کی وجہ قحط سالی اور لوگوں کے پاس وسائل کی کمی تھی۔ اگلے سال حالات بہتر ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی۔ اب بھی حاکم وقت شرعی مصلحت کے پیش نظر ایسا حکم جاری کرسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 563 سے ماخوذ ہے۔