الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ الْمُوَاسَاةِ فِي السَّنَةِ وَالْمَجَاعَةِ باب: قحط سالی اور بھوک کے ایام میں ایک دوسرے کی معاونت کرنا
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ الأَنْصَارَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ، قَالَ: ”لَا“، فَقَالُوا: تَكْفُونَا الْمَؤُونَةَ، وَنُشْرِكُكُمْ فِي الثَّمَرَةِ؟ قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہمارے کھجوروں کے باغ ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر انہوں نے مہاجرین سے کہا: تم کام میں ہمارا ہاتھ بٹاؤ، ہم تمہیں پھل میں شریک کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ بات ہم قبول کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مشکل حالات میں مسلمان کو دوسرے مسلمان کی ہمدردی کرنی چاہیے اور اس کی معاونت کرنی چاہیے تاکہ وہ حالات سے تنگ آکر مایوس نہ ہو جائے۔ اسی طرح مشکل میں پھنسے مسلمان کو بھی چاہیے کہ خود محنت اور کوشش کرے اور دوسروں پر بوجھ نہ ڈالے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے اس قبیلے کی تعریف فرمائی جو کھانا کم ہونے پر اپنا کھانا اکٹھا کرلیتے اور کھاتے تھے۔
مشکل حالات میں مسلمان کو دوسرے مسلمان کی ہمدردی کرنی چاہیے اور اس کی معاونت کرنی چاہیے تاکہ وہ حالات سے تنگ آکر مایوس نہ ہو جائے۔ اسی طرح مشکل میں پھنسے مسلمان کو بھی چاہیے کہ خود محنت اور کوشش کرے اور دوسروں پر بوجھ نہ ڈالے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے اس قبیلے کی تعریف فرمائی جو کھانا کم ہونے پر اپنا کھانا اکٹھا کرلیتے اور کھاتے تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 561 سے ماخوذ ہے۔