الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ الْمُوَاسَاةِ فِي السَّنَةِ وَالْمَجَاعَةِ باب: قحط سالی اور بھوک کے ایام میں ایک دوسرے کی معاونت کرنا
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ بَشِيرٍ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ الْمَعْوَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ مَجَاعَةٌ، مَنْ أَدْرَكَتْهُ فَلاَ يَعْدِلَنَّ بِالأَكْبَادِ الْجَائِعَةِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آخری زمانے میں بھوک اور قحط ہو گا۔ جو شخص اس زمانہ کو پا لے وہ بھوکے لوگوں سے روگردانی نہ کرے، یعنی ایسا نہ ہو کہ خود کھا لے اور ان کا خیال نہ رکھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس اثر کی سند ضعیف ہے، اس میں حماد بن بشیر راوی ضعیف ہے۔ تاہم بھوکوں کو کھانا کھلانا دیگر دلائل سے ثابت ہے۔
اس اثر کی سند ضعیف ہے، اس میں حماد بن بشیر راوی ضعیف ہے۔ تاہم بھوکوں کو کھانا کھلانا دیگر دلائل سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 560 سے ماخوذ ہے۔