حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ، يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، يُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ مِنْ جَهَنَّمَ يُسَمَّى: بُولَسَ، تَعْلُوهُمْ نَارُ الأَنْيَارِ، وَيُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ، طِينَةَ الْخَبَالِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متکبروں کو قیامت کے روز چونٹیوں کی مانند مردوں کی صورت میں جمع کیا جائے گا۔ ہر طرف سے ذلت و رسوائی ان پر چھائی ہو گی۔ جہنم کے ایک قید خانے کی طرف انہیں ہانک کر لے جایا جائے گا جسے «بولس» کہا جاتا ہے۔ سب سے بڑی آگ انہیں گھیرے رہے گی۔ انہیں دوزخیوں کے زخموں کا خون اور پیپ، جسے «طینة الخبال» کہا جاتا ہے، پینے کو دیا جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)جس طرح کا جرم ہوگا سزا بھی اسی طرح کی ملے گی۔ متکبر کیونکہ دنیا میں خود کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے رسوا اور حقیر کرے گا اور جسمانی طور پر بھی اسے نہایت چھوٹا کر دیا جائے تاکہ اس کی ذلت اور بڑھ جائے۔ پھر انہیں جہنم کے شدید ترین عذاب سے دو چار کیا جائے گا اور وہ نجات سے مایوس ہو جائیں گے۔
(۲) بولس جہنم کا وہ طبقہ ہے جس میں جانے والے نکلنے کی امید کھو بیٹھیں گے۔ اور انہیں پینے کے لیے بدبو دار خون اور پیپ دیا جائے گا۔
(۱)جس طرح کا جرم ہوگا سزا بھی اسی طرح کی ملے گی۔ متکبر کیونکہ دنیا میں خود کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے رسوا اور حقیر کرے گا اور جسمانی طور پر بھی اسے نہایت چھوٹا کر دیا جائے تاکہ اس کی ذلت اور بڑھ جائے۔ پھر انہیں جہنم کے شدید ترین عذاب سے دو چار کیا جائے گا اور وہ نجات سے مایوس ہو جائیں گے۔
(۲) بولس جہنم کا وہ طبقہ ہے جس میں جانے والے نکلنے کی امید کھو بیٹھیں گے۔ اور انہیں پینے کے لیے بدبو دار خون اور پیپ دیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 557 سے ماخوذ ہے۔