حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو عُمَرَ الْيَمَامِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ، أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے خود کو بڑا سمجھا، یا اکڑ کر چلا، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أحمد : 5995 و الحاكم: 60/1 - انظر الصحيحة : 543»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)انسان خود کچھ بھی نہیں۔ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے اور اسی کا فضل و احسان ہے۔ انسان اپنے علم و عمل یا کسی خوبی کی بنا پر یہ نہیں کہہ سکتا وہ اس کا حق دار ہے کیونکہ وہ خوبی بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ جو شخص خود کو بڑا سمجھے اور اسے تکبر کی بیماری لگ جائے اسے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوا وہ جہنم رسید ہوگا۔
(۲) چال ڈھال انسان کی دلی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ دل میں اگر اللہ تعالیٰ کی بڑائی ہو تو چال میں عجز و انکساری ہوتی ہے۔ اگر دل میں تکبر و غرور ہو تو اس کا اظہار چال ڈھال سے ہوتا ہے اس لیے اکڑ کر چلنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص تکبر سے ازار بند لٹکا کے چلا جارہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ (صحیح البخاري، اللباس، ح:۵۳۴۳)
اس لیے تکبر سے بچنا چاہیے اور متکبرانہ گفتگو، سوچ اور چال ڈھال سے اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 549 سے ماخوذ ہے۔