الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا أَحَبَّ رَجُلًا فَلَا يُمَارِهِ وَلَا يَسْأَلُ عَنْهُ باب: جب آدمی کسی سے محبت کرے تو اس سے جھگڑا نہ کرے اور نہ اس کے بارے میں کسی سے پوچھے
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ أَحَبَّ أَخًا لِلَّهِ، فِي اللهِ، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ لِلَّهِ، فَدَخَلاَ جَمِيعًا الْجَنَّةَ، كَانَ الَّذِي أَحَبَّ فِي اللهِ أَرْفَعَ دَرَجَةً لِحُبِّهِ، عَلَى الَّذِي أَحَبَّهُ لَهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی دینی بھائی سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کی اور کہا کہ میں تم سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہوں تو وہ دونوں اکٹھے جنت میں داخل ہوں گے۔ وہ شخص جس نے صرف اللہ کے لیے محبت کی اس کا درجہ بلند ہو گا، اس پر جس نے اس محبت کی وجہ سے اس سے محبت کی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم افریقی راوی ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم افریقی راوی ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 546 سے ماخوذ ہے۔