حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ‏:‏ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، قَالَ‏:‏ أَمَا إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ‏:‏ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ، فَقَالَ‏:‏ لَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ أَحَبَّهُ“، مَا أَخْبَرْتُكَ، قَالَ‏:‏ ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ الْخِطْبَةَ قَالَ‏:‏ أَمَا إِنَّ عِنْدَنَا جَارِيَةً، أَمَا إِنَّهَا عَوْرَاءُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب مجھے ملے تو انہوں نے پیچھے سے میرے کندھے کو پکڑا اور کہا: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے کہا: وہ ذات باری تجھ سے محبت کرے جس کی رضا کے لیے آپ نے مجھ سے محبت کی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا ہوتا: ”جب کوئی آدمی کسی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔“ تو میں تمہیں ہرگز نہ بتاتا۔ مجاہد نے بتایا کہ پھر انہوں نے مجھے نکاح کی پیش کش کی اور کہا کہ ہمارے پاس ایک باندی ہے، تم اس سے نکاح کر لو، اس کا کوئی بھائی بہن نہیں ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح : الصحيحة : 418»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اللہ تعالیٰ کی خاطر باہم محبت کرنا نہایت فضیلت والا کام ہے، حتی کہ اللہ کے لیے باہم محبت کرنے والوں پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ (ترمذي:۲۳۹۰)اس لیے آدمی جس سے اللہ کی خاطر محبت کرے تو اسے آگاہ بھی کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی نیت کو درست کرلے اور یوں اس کے تقاضوں کو بھی سامنے رکھے۔
(۲) انسان جس سے محبت کرے اس سے اس کا نام اور نسب و برادری پوچھ لے تاکہ محبت و مودت زیادہ پختہ ہوسکے۔
(۳) جو شخص اطلاع دے کہ میں تم سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کرتا ہوں اسے جواباً یہ دعا دینی چاہیے کہ جس کی خاطر تونے مجھ سے محبت کی ہے وہ ذات عالی بھی تجھ سے محبت کرے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 543 سے ماخوذ ہے۔