حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذَهَبْتُ مَعَ الْحَسَنِ إِلَى قَتَادَةَ نَعُودُهُ ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ دَعَا لَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْفِ قَلْبَهُ ، وَاشْفِ سَقَمَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ربیع بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حسن رحمہ اللہ کے ساتھ قتادہ رحمہ اللہ کی تیمارداری کے لیے گیا تو وہ ان کے سرہانے بیٹھ گئے اور ان کا حال دریافت کیا، پھر ان کے لیے ان الفاظ میں دعا کی: اے اللہ اس کے دل کو شفایاب کر دے، اور اس کو بیماری سے صحت عطا فرما۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ عیادت کرنے والے کو مریض کے سر کے قریب بیٹھنا چاہیے اور اس کے مطالبے کے بغیر اسے دم کرنا چاہیے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عیادت کرنے والے کو مریض کے سر کے قریب بیٹھنا چاہیے اور اس کے مطالبے کے بغیر اسے دم کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 537 سے ماخوذ ہے۔