حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا خَطَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلانَ ، وَإِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”يَقُولُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ ، فَصَبَرْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ وَاحْتَسَبْتَ ، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم جب میں تیری دونوں پیاری آنکھیں لے لوں اور تو اس صدمے پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں بھی تیرے لیے ثواب دینے میں جنت کے سوا کسی اور چیز پر راضی نہیں ہوں گا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح : أخرجه ابن ماجه ، كتاب الجنائز ، باب ماجاء فى الصبر على المصيبة : 1597 - انظر المشكاة : 1758»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ دونوں احادیث قدسی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو بندہ آنکھیں ضائع ہونے پر شکوہ و شکایت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں ڈالے بغیر سیدھا جنت میں داخل کرے گا۔ یاد رہے یہ صبر صدمے کے آغاز میں ہے، بعد ازاں تو صبر آ ہی جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 535 سے ماخوذ ہے۔