الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ عِيَادَةِ النِّسَاءِ الرَّجُلَ الْمَرِيضَ باب: عورتوں کا بیمار آدمی کی عیادت کرنا
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ ، هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْد اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، عَلَى رِحَالِهَا أَعْوَادٌ لَيْسَ عَلَيْهَا غِشَاءٌ ، عَائِدَةً لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنَ الأَنْصَارِ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حارث بن عبیداللہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو ایک ایسے کجاوے پر دیکھا جو لکڑی سے بنا ہوا تھا اور اس پر پردہ نہیں تھا، وہ اہل مسجد میں سے ایک انصاری کی عیادت کے لیے تشریف لائی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اس میں حارث بن عبیداللہ راوی مجہول الحال ہے۔ تاہم عورتوں کا غیر محرم مردوں کی تیمار داری کرنا جائز ہے جیسا کہ گزشتہ اوراق میں گزرا ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اس میں حارث بن عبیداللہ راوی مجہول الحال ہے۔ تاہم عورتوں کا غیر محرم مردوں کی تیمار داری کرنا جائز ہے جیسا کہ گزشتہ اوراق میں گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 530 سے ماخوذ ہے۔