حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ ، يَسْأَلُهُ : كَيْفَ هُوَ ؟ فَإِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ : خَارَ اللَّهُ لَكَ ، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَيْهِ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی مریض کی تیمارداری کرتے تو اس سے پوچھتے: وہ کیسا ہے؟ اور جب وہاں سے اٹھتے تو فرماتے: اللہ تیرے لیے خیر کر دے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه البيهقي فى شعب الإيمان : 8775 و أبوالعباس الإصم : 349/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 527 سے ماخوذ ہے۔