الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ باب: مریض سے کیا کہا جائے ، یعنی کیسے حال پوچھا جائے
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ ، يَسْأَلُهُ : كَيْفَ هُوَ ؟ فَإِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ : خَارَ اللَّهُ لَكَ ، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَيْهِ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی مریض کی تیمارداری کرتے تو اس سے پوچھتے: وہ کیسا ہے؟ اور جب وہاں سے اٹھتے تو فرماتے: اللہ تیرے لیے خیر کر دے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 527 سے ماخوذ ہے۔