حدیث نمبر: 523
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : عَادَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَفْوَانَ ، فَسیدنا الصَّلاةُ ، فَصَلَّى بِهِمُ ابْنُ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَقَالَ : إِنَّا سَفْرٌ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی اور کہا: ہم مسافر ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ تیمار داری کے دوران اگر مریض کے گھر میں نماز کا وقت ہو جائے تو وہیں جماعت کروا کر نماز پڑھائی جاسکتی ہے تاکہ مریض بھی اس میں شامل ہو جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ تیمار داری کے دوران اگر مریض کے گھر میں نماز کا وقت ہو جائے تو وہیں جماعت کروا کر نماز پڑھائی جاسکتی ہے تاکہ مریض بھی اس میں شامل ہو جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 523 سے ماخوذ ہے۔