حدیث نمبر: 517
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”يَقُولُ اللَّهُ : اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمَنِي ، قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ اسْتَطْعَمْتَنِي وَلَمْ أُطْعِمْكَ ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَيَقُولُ : إِنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ، قَالَ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ أَعُودُكَ ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ ، فَلَوْ كُنْتَ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ أَوْ وَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ روز قیامت فرمائے گا: بندے! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا لیکن تو نے مجھے کھلایا نہیں۔ بندہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھ سے کیسے کھانا مانگا تھا اور میں نے تجھے کھلایا نہیں تھا جبکہ تو تو رب العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے ایسے نہیں کھلایا۔ تو نہیں جانتا ہے کہ اگر تو اس کو کھلاتا تو اس کو میرے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا لیکن تو نے مجھے نہ پلایا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے پلاتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اسے نہ پلایا۔ کیا تجھے معلوم نہیں اگر تو اسے پانی پلاتا تو اس کو میرے پاس پا لیتا؟ اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو تو نے میری تیمارداری بھی نہ کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں کیسے تیری تیمارداری کرتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا، اگر تو اس کی تیمارداری کرتا تو اس کو میرے پاس پا لیتا، یا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 517
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب البر و الصلة و الأدب : 2569»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مذکورہ اعمال کی فضیلت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ان کی نسبت اپنی طرف کی ہے مطلب یہ ہے کہ مریض کی تیمار داری، بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہو نہایت بابرکت عمل ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 517 سے ماخوذ ہے۔