الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ يُكْتَبُ لِلْمَرِيضِ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ باب: مریض کا ہر وہ اچھا عمل لکھا جاتا ہے جو وہ حالتِ صحت میں کرتا تھا
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا عُمَرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابوسُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ”مَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ ، وَلا مُسْلِمٍ وَلا مَسْلَمَةٍ ، يَمْرَضُ مَرَضًا إِلا قَصَّ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی مومن مرد یا عورت، اسی طرح مسلمان مرد یا عورت کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے ذریعے سے اس کے گناہ کم کر دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان احادیث کا بظاہر باب سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہمارے فہم کے مطابق جب تکلیف اور بیماری میں مزید عنایت ہوتی ہے کہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اجر و ثواب بھی ملتا ہے جبکہ بندہ اپنے معمولات بھی ادا نہیں کر رہا ہوتا، تو اصل ثواب تو بالاولیٰ ملتا ہوگا۔ واللہ اعلم۔
ان احادیث کا بظاہر باب سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہمارے فہم کے مطابق جب تکلیف اور بیماری میں مزید عنایت ہوتی ہے کہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اجر و ثواب بھی ملتا ہے جبکہ بندہ اپنے معمولات بھی ادا نہیں کر رہا ہوتا، تو اصل ثواب تو بالاولیٰ ملتا ہوگا۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 508 سے ماخوذ ہے۔