حدیث نمبر: 503
وَعَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا مِنْ مَرَضٍ يُصِيبُنِي أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْحُمَّى ، لأَنَّهَا تَدْخُلُ فِي كُلِّ عُضْوٍ مِنِّي ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُعْطِي كُلَّ عُضْوٍ قِسْطَهُ مِنَ الأَجْرِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بخار سے زیادہ مجھے کوئی بیماری محبوب نہیں کیونکہ وہ جسم کے ہر جوڑ میں داخل ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر عضو کو اس کے حصے کا اجر عطا فرماتا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 503
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح : أخرجه ابن أبي شيبة : 10817 و ابن أبي الدنيا في المرض و الكفارات : 240 و البيهقي في شعب الإیمان : 9407 و الدلابي في الكني : 1742 و الطبراني في الكبير : 378/22

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ بلاشبہ ہر بیماری پر اجر ملتا ہے لیکن وہ بقدر تکلیف ہی ہوتا ہے۔ بخار پورے جسم کو ہوتا ہے اس لیے پورا جسم ہی اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ یوں ہر ہر عضو اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 503 سے ماخوذ ہے۔