حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ حُذَيْفَةُ، سَمِعَ بِذَلِكَ رَهْطُهُ وَالأَنْصَارُ ، فَأَتَوْهُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ الصُّبْحِ ، قَالَ : أَيُّ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ قُلْنَا : جَوْفُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ الصُّبْحِ ، قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ صَبَاحِ النَّارِ ، قَالَ : جِئْتُمْ بِمَا أُكَفَّنُ بِهِ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : لا تُغَالُوا بِالأَكْفَانِ ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُنْ لِي عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ بُدِّلْتُ بِهِ خَيْرًا مِنْهُ ، وَإِنْ كَانَتِ الأُخْرَى سُلِبْتُ سَلْبًا سَرِيعًا ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : أَتَيْنَاهُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ.خالد بن ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو اس کی خبر ان کے احباب اور انصار کو پہنچی تو وہ آدھی رات یا سحری کے قریب ان کی تیمارداری کے لیے آئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ ہم نے کہا: آدھی رات یا سحری کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا: میں ایسی صبح سے اللہ کی پناہ مانگتا جس میں دوزخ میں داخلہ ہو۔ پھر فرمایا: تم میرے لیے کفن لائے ہو؟ ہم نے کہا: ہاں! انہوں نے فرمایا: میرا کفن زیادہ قیمتی کپڑے کا نہ بنانا کیونکہ اگر میرے لیے اللہ کے ہاں خیر ہے تو اس سے بہتر بدل دیا جائے گا اور اگر کوئی دوسرا معاملہ ہوا تو یہ بھی بہت جلد مجھ سے چھین لیا جائے گا۔ ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ہم رات کے کسی حصے میں ان کے پاس آئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ اگر رات کے وقت کسی آدمی کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی ہے تو رات کے وقت ہی اس کی تیمار داری کی جاسکتی ہے بلکہ عزیز و اقارب اور دوست احباب کو فوراً پہنچنا چاہیے۔
(۲) انسان اگر سمجھے کہ اس کے مرنے کے بعد کوئی خلاف شرع کام ہوگا تو اسے چاہیے کہ موت سے پہلے اس سے منع کردے۔
(۳) حضرت حذیفہ بن یمان مدائن میں مقیم تھے۔ وہیں بیمار ہوئے تو انصار ان کی تیمار داری کے لیے آئے۔
(۴) قریب الوفات شخص کو جہنم سے پناہ طلب کرنی چاہیے اور اپنے رب کے پاس جانے کا شوق اور اس کی ذات عالی سے اچھی امید ہونی چاہیے۔