حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :” لَا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ ، فِي جَسَدِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ.“ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ ، وَزَادَ : ”فِي وَلَدِهِ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن مرد اور مومن عورت کو تکلیف پہنچتی رہتی ہے، اس کے جسم میں، اس کے اہل و عیال میں اور مال میں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ ایک روایت میں اہل و عیال کے ساتھ اولاد کا ذکر بھی ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الزهد ، باب ماجاء فى الصبر على البلاء : 2399 - انظر الصحيحة : 2280»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائشوں اور تکلیفوں میں ڈال دیتا ہے (الصحیحة، ح:۱۴۶)اور یہ آزمائشیں اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملتا ہے۔ اور بسا اوقات کسی بندے کا مرتبہ اللہ کے ہاں مقرر ہوتا ہے لیکن اس کے عمل اس لائق نہیں ہوتے کہ وہ اس منزل تک پہنچ پائے تو اللہ تعالیٰ اسے مشکلات میں ڈال کر اس درجے تک پہنچا دیتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری اور مشکلات ایمان کی نشانی ہے۔ اگلی حدیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 494 سے ماخوذ ہے۔