حَدَّثَنَا مُوسَىٰ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُوعَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ ، وَعَادَ مَرِيضًا فِي كِنْدَةَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُؤْمِنِ يَجْعَلُهُ اللَّهُ لَهُ كَفَّارَةً وَمُسْتَعْتَبًا ، وَإِنَّ مَرَضَ الْفَاجِرِ كَالْبَعِيرِ عَقَلَهُ أَهْلُهُ ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ ، فَلَا يَدْرِي لِمَ عُقِلَ وَلِمَ أُرْسِلَ.عبدالرحمٰن بن سعید سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کندہ میں ایک مریض کی تیمار داری کی۔ جب وہ مریض کے پاس آئے تو انہوں نے اس سے کہا: خوش ہو جاؤ، بلاشبہ مومن کی بیماری کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ اور رضا الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اور فاسق، فاجر آدمی کی بیماری ایسے اونٹ کی طرح ہے جس کو اس کے گھر والوں نے باندھ دیا ہو، پھر اس کو چھوڑ دیا۔ اسے معلوم ہی نہیں کہ اسے کیوں باندھا گیا اور کیوں چھوڑا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
مسلمان کی بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور وہ اپنا جائزہ لیتا ہے کہ اس سے کون سا گناہ سرزد ہوا ہے۔ اس سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ اپنے طرز زندگی کو بدل لیتا ہے اس کے برعکس کافر کو اجر و ثواب کی امید ہوتی ہے نہ وہ اس سے سبق سیکھتا ہے۔