حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ ، وَلا وَصَبٍ ، وَلاهَمٍّ ، وَلا حَزَنٍ ، وَلا أَذًى ، وَلا غَمٍّ ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا ، إِلا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ .“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو جو بھی دکھ، گھٹن، حزن، ملال اور تکلیف و غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر کانٹا ہی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ضرور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مسلمان اگر پہنچنے والی تکلیف پر واویلا نہیں کرتا اور صبر کرکے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا ہے تو اس کی یہ تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور وہ پاک صاف ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ جزع فزع کرے تو پھر ثواب سے محروم رہتا ہے۔
مسلمان اگر پہنچنے والی تکلیف پر واویلا نہیں کرتا اور صبر کرکے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا ہے تو اس کی یہ تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور وہ پاک صاف ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ جزع فزع کرے تو پھر ثواب سے محروم رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 492 سے ماخوذ ہے۔