حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمان بْنُ عَامِرٍ ، أَنَّ غُطَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَهُوَ وَجِعٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَمْسَى أَجْرُ الأَمِيرِ ؟ فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ فِيمَا تُؤْجَرُونَ بِهِ ؟ فَقَالَ : بِمَا يُصِيبُنَا فِيمَا نَكْرَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا تُؤْجَرُونَ بِمَا أَنْفَقْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاسْتُنْفِقَ لَكُمْ ، ثُمَّ عَدَّ أَدَاةَ الرَّحْلِ كُلَّهَا حَتَّى بَلَغَ عِذَارَ الْبِرْذَوْنِ ، وَلَكِنَّ هَذَا الْوَصَبَ الَّذِي يُصِيبُكُمْ فِي أَجْسَادِكُمْ يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ مِنْ خَطَايَاكُمْ .غطيف بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری میں آیا اور کہا: امیر کا اجر و ثواب کس درجے میں ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کن چیزوں میں تمہیں اجر دیا جاتا ہے؟ اس آدمی نے کہا: جو ہمیں ناگوار چیزیں پہنچتی ہیں ان پر اجر ملتا ہے۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور جو تم پر خرچ کیا جاتا ہے اس پر اجر ملتا ہے۔ پھر انہوں نے کجاوے کا سارا سامان شمار کیا حتی کہ گھوڑے کی لگام بھی گنی (کہ اس میں بھی اجر ہے) لیکن یہ تکلیف جو تمہیں تمہارے جسموں میں پہنچتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ مسلمان کو پہنچنے والی مصیبت پر، خواہ کانٹا بھی چبھے، اسے اجر دیا جاتا ہے اور گناہ بھی مٹائے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم، ح:۲۵۷۲)