حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَحَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے بچو کیونکہ ظلم روز قیامت اندھیرے بن کر آئے گا۔ اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور انہیں اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے آپس میں خون بہائے اور اپنی حرمتوں کو پامال کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
واستحلو محارمهم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حرام چیزوں کو حلال کرلیا یا انہوں نے اپنی محرم عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دے لیا تاکہ وراثت کوئی دوسرا نہ لے جائے۔ مزید فوائد کے لیے حدیث:۴۷۰ کے فوائد ملاحظہ کیجیے۔
واستحلو محارمهم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حرام چیزوں کو حلال کرلیا یا انہوں نے اپنی محرم عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دے لیا تاکہ وراثت کوئی دوسرا نہ لے جائے۔ مزید فوائد کے لیے حدیث:۴۷۰ کے فوائد ملاحظہ کیجیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 488 سے ماخوذ ہے۔