الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ سُؤَالِ الْعَبْدِ الرِّزْقَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ لِقَوْلِهِ : أَرْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِيْنَ باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بندے کا اللہ سے رزق طلب کرنا کہ ہمیں رزق عطا فرما، تو رزق عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ“، وَنَظَرَ نَحْوَ الْعِرَاقِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَنَظَرَ نَحْوَ كُلِّ أُفُقٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ تُرَاثِ الأَرْضِ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے برسرِ منبر سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف متوجہ فرما۔“ اور عراق کی طرف دیکھ کر اسی طرح فرمایا بلکہ ہر طرف دیکھ کر اسی طرح دعا کی اور فرمایا: ”اے اللہ! ہم کو زمین کی پیداوار سے رزق عطا فرما اور مد اور صاع (پیمانے) میں برکت عطا فرما۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ابوالزبیر مکی مدلس ہے، تاہم مد اور صاع کی برکت کی دعا دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ابوالزبیر مکی مدلس ہے، تاہم مد اور صاع کی برکت کی دعا دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 482 سے ماخوذ ہے۔