حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ: إِنْ سَمِعْتَ بِالدَّجَّالِ قَدْ خَرَجَ، وَأَنْتَ عَلَى وَدِيَّةٍ تَغْرِسُهَا، فَلاَ تَعْجَلْ أَنْ تُصْلِحَهَا، فَإِنَّ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ عَيْشًا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
داؤد بن ابی داؤد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اگر تم سنو کہ دجال آ گیا ہے اور تم زمین میں کچھ لگا رہے ہو تو جلدی نہ کرو، بلکہ اسے اچھی طرح لگا لو کیونکہ لوگ اس کے بعد بھی زندہ رہیں گے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس کی سند ضعیف ہے، تاہم اس سے قبل اسی معنی میں صحیح حدیث گزر چکی ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے، تاہم اس سے قبل اسی معنی میں صحیح حدیث گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 480 سے ماخوذ ہے۔