حدیث نمبر: 475
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ فِيهِ صُعُوبَةٌ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لاَ يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ زَانَهُ، وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلا شَانَهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک ضدی اونٹ پر سوار تھی تو میں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نرمی کرو، نرمی جس چیز میں بھی ہو اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے بدنما بنا دیتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسان کی خوبصورتی اس کی نرمی اور عمدہ اخلاق میں ہے۔ نرمی عام انسان کو بھی بہت بلند کر دیتی ہے اور اکھڑ پن اور سختی انسان کی عزت و توقیر کو ختم کر دیتی ہے اور سخت مزاج آدمی جنگل کے اس اکیلے درخت کی طرح ہوتا ہے جس کے آس پاس جڑی بوٹیاں تو ہوتی ہیں لیکن پھول کہیں نہیں ملتے۔
انسان کی خوبصورتی اس کی نرمی اور عمدہ اخلاق میں ہے۔ نرمی عام انسان کو بھی بہت بلند کر دیتی ہے اور اکھڑ پن اور سختی انسان کی عزت و توقیر کو ختم کر دیتی ہے اور سخت مزاج آدمی جنگل کے اس اکیلے درخت کی طرح ہوتا ہے جس کے آس پاس جڑی بوٹیاں تو ہوتی ہیں لیکن پھول کہیں نہیں ملتے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 475 سے ماخوذ ہے۔