حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ‏:‏ أَمْسِكْ حَتَّى أَخِيطَ نَقْبَتِي فَأَمْسَكْتُ فَقُلْتُ‏:‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ خَرَجْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ لَعَدُّوهُ مِنْكِ بُخْلاً، قَالَتْ‏:‏ أَبْصِرْ شَأْنَكَ، إِنَّهُ لاَ جَدِيدَ لِمَنْ لاَ يَلْبَسُ الْخَلَقَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ذرا ٹھہرو میں اپنا پائجامہ سی لوں۔ کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ٹھہر گیا اور کہا: ام المؤمنین! اگر میں باہر جا کر بتاؤں کہ آپ پرانا کپڑا سی رہی ہیں تو لوگ اسے آپ کی کنجوسی میں شمار کریں گے۔ انہوں نے فرمایا: سمجھ کر بات کرو، بات یہ ہے کہ جو پرانا کپڑا نہ پہنے اس کا نئے کپڑے میں کوئی حق نہیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الرفق / حدیث: 471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه المصنف فى التاريخ الكبير : 207/7 و ابن أبى الدنيا فى إصلاح المال : 399»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جو پرانا کپڑا نہیں پہنتا وہ اسراف اور فضول خرچ ہے اس لیے انسان کو اس مال کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ سادگی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور ایمان کا حصہ ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو ہر دفعہ نیا کپڑا پہنتا ہو اس پر اس کی فضول خرچی کی وجہ سے ایسا وقت آجاتا ہے کہ اس کے پاس نیا پہننے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ میانہ روی اور سادگی ہی میں عزت ہے۔ امہات المومنین مال کی فراوانی کے بعد بھی سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 471 سے ماخوذ ہے۔