حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ فِيهِ صُعُوبَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّهُ لاَ يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلا زَانَهُ، وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلا شَانَهُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ایک ضدی اونٹ پر سوار تھی (اور اسے مار رہی تھی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نرمی کرو، نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے ضرور مزین کر دیتی ہے اور جس سے یہ صفت نکل جائے اسے بدنما بنا دیتی ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الرفق / حدیث: 469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب البر و الصلة و الأدب : 2594 و أبوداؤد : 2478 - انظر الصحيحة : 524»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسانوں کے علاوہ جانوروں کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آنا چاہیے اور بلاوجہ انہیں مارنے اور ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف دینے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے علاوہ جانوروں سے بھی حسن سلوک کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 469 سے ماخوذ ہے۔