حدیث نمبر: 467
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشیں کنواری دوشیزہ سے بھی زیادہ حیا والے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تو ہم اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پہچان لیتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
آپ کی طبیعت میں نرمی تھی۔ اس لیے آپ کسی کو اس کی بری بات پر اس کے منہ پر نہیں ڈانٹتے تھے۔ ہمدردانہ انداز میں اجتماعی طور پر اصلاح فرما دیتے یا پھر علیحدگی میں تنبیہ فرماتے۔ البتہ اگر حلال و حرام کا یا عبادت سے متعلق کوئی معاملہ ہوتا تو سر عام بھی اصلاح فرماتے تاکہ دوسرے لوگ بھی سبق سیکھیں۔
آپ کی طبیعت میں نرمی تھی۔ اس لیے آپ کسی کو اس کی بری بات پر اس کے منہ پر نہیں ڈانٹتے تھے۔ ہمدردانہ انداز میں اجتماعی طور پر اصلاح فرما دیتے یا پھر علیحدگی میں تنبیہ فرماتے۔ البتہ اگر حلال و حرام کا یا عبادت سے متعلق کوئی معاملہ ہوتا تو سر عام بھی اصلاح فرماتے تاکہ دوسرے لوگ بھی سبق سیکھیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 467 سے ماخوذ ہے۔