حدیث نمبر: 466
حَدَّثَنَا الْغُدَانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا يَكُونُ الْخُرْقُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ شَانَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اکھڑ پن جس چیز میں بھی ہو اس کو بدنما بنا دیتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نرمی والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الرفق / حدیث: 466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البزار : 359/13 - انظر صحيح الترغيب : 2672»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سخت مزاجی اور اکھڑپن سے انسان کی شخصیت کا حسن ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ ایسے شخص سے دور ہو جاتے ہیں جبکہ نرم طبیعت والا شخص دوسروں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے آدمی سے محبت کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 466 سے ماخوذ ہے۔